الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عَنِ الْمُثْلَةِ وَالتَّحْرِيقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ وَهَدْمِ الْعَمَرَانِ إِلَّا لِحَاجَةٍ وَمَصْلِحَةِ باب: مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَرَهْطًا مَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ عُذْرَةَ فَقَالَ إِنْ قَدَرْتُمْ عَلَى فُلَانٍ فَأَحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا تَوَارَوْا مِنْهُ نَادَاهُمْ أَوْ أَرْسَلَ فِي أَثَرِهِمْ فَرَدُّوهُمْ ثُمَّ قَالَ إِنْ أَنْتُمْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ فَاقْتُلُوهُ وَلَا تُحْرِقُوهُ بِالنَّارِ فَإِنَّمَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ رَبُّ النَّارِ۔ صحابی ٔ رسول سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک لشکر سمیت عُذرہ قبیلے کے ایک آدمی کی طرف بھیجا اور فرمایا: اگر تم نے فلاں پر غلبہ پا لیا تو اس کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پس وہ چل پڑے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوجھل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور کسی آدمی کو بھیج کر ان کو واپس بلا لیا اور پھر فرمایا: اگر تم نے اس آدمی پر غلبہ پا لیا تو اس کو قتل کرنا، آگ کے ساتھ جلانا نہیں ہے، کیونکہ آگ کا ربّ ہی ہے، جو آگ کے ذریعے عذاب دے سکتا ہے۔