الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عَنِ الْمُثْلَةِ وَالتَّحْرِيقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ وَهَدْمِ الْعَمَرَانِ إِلَّا لِحَاجَةٍ وَمَصْلِحَةِ باب: مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
حدیث نمبر: 5008
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پا لو تو ان کو آگ کے ساتھ جلا دینا۔ پھر جب ہم نے نکلنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو فلاں فلاں آدمیوں کو آگ کے ساتھ جلا دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ آگ کے ساتھ عذاب دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اس لیے اگر تم ان کو پا لو تو ان کو قتل کر دینا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دو آدمی ہبار بن اسود اور نافع بن عبد قیس تھے، اول الذکر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گیا اور آخر الذکر کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔