حدیث نمبر: 5007
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَّةَ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ قَالَ فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم مجھے ذو خلصہ سے راحت نہیں پہنچاتے؟ یہ خثعم قبیلے کا ایک گھر تھا، اس کو کعبۂ یمانیہ کہا جاتا تھا، میں احمس قبیلے کے ایک سو ستر گھوڑ سوار لے کر اس کی طرف گیا، وہ وہاں گئے اور آگ لگا کر اس کو جلا دیا، پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک خوشخبری دینے والا بھیجا اور اس نے آ کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس گھر کو خارشی اونٹ کی طرح چھوڑ کر آپ کو خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احمس قبیلے کے گھوڑ سواروں اور پیادہ لوگوں کے لیے پانچ بار برکت کی دعا کی۔

وضاحت:
فوائد: … ذوخلصہ گھر کے اندر ایک بت بھی تھا، اس کا نام خلصہ تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 5007
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2823، 4355، ومسلم: 2476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19402»