الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب النهي عَنِ الْمُثْلَةِ وَالتَّحْرِيقِ وَقَطْعِ الشَّجَرِ وَهَدْمِ الْعَمَرَانِ إِلَّا لِحَاجَةٍ وَمَصْلِحَةِ باب: مثلہ، جلانے، درخت کاٹنے اور عمارتیں گرانے سے ممانعت کا بیان، الا یہ کہ کوئی ضرورت اور مصلحت ہو
حدیث نمبر: 5001
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھوٹے بچے، یا بوڑھے آدمی کو قتل کیا، یا کھجوروں کے درخت جلائے، یا پھل دار درخت کاٹے اور چمڑے کی خاطر بکری کو ذبح کر دیا تو وہ اس جہاد سے برابر سرابر بھی نہیں لوٹے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ضرورت و مصلحت کے پیش نظر درختوں اور دیگر سامان کو جلا کر دشمن کے علاقے میں تخریب کاری کی جا سکتی ہے۔