الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْكَفْ عَنْ قَصْدِ النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ وارهْبَانِ وَالشَّيْخ القَانِي بِالْقَتْلِ باب: عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
عَنْ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا وَعَلَى مُقَدِّمَتِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ مِمَّا أَصَابَتِ الْمُقَدِّمَةُ فَوَقَفُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَانْفَرَجُوا عَنْهَا فَوَقَفَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ الْحَقْ خَالِدًا فَقُلْ لَهُ لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفًا۔ سیدنا رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ ، جو کہ حنظلہ کاتب کے بھائی تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں نکلے، لشکر کے مقدمہ پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مامور تھے، جب رباح اور دوسرے صحابہ ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے، جس کو مقدمہ نے قتل کیا تھا، تو وہ کھڑے ہو گئے، اس کو دیکھنے لگ گئے اور اس کی جسامت پر تعجب کرنے لگے، یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس عورت کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا: یہ تو قتال کرنے والی نہیں تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: خالد کو ملو اور اس کو کہو کہ عورت اور بچے اور مزدور کو قتل مت کرو۔