الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ جَوَازِ تَبِيْتِ الْكُفَّارِ وَإِنْ أَدَّى إِلَى قَتْلِ ذُرَارِيهِمْ تَبَعًا باب: کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
حدیث نمبر: 4992
عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ فَقَالَ هُمْ مِنْهُمْ ثُمَّ يَقُولُ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَهَى عَنْ ذَلِكَ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکوں کے ان گھروں کے بارے میں سوال کیا گیا، جن پر رات کو حملہ کیا جاتا ہے اور اس طرح ان کی عورتیں اور بچے بھی قتل کر دیئے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی ان میں سے ہی ہیں۔ امام زہری کہتے ہیں: لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب میں ان افراد کا ذکر ہے، جن کو قتل کرنا منع ہے، اِس باب کی احادیث کا تعلق ضرورت سے ہے، یعنی جب مشرکین تک پہنچنا ان کے بچوں کو قتل یا روندے بغیر ممکن نہ ہو، یا وہ جنگ میں رکاوٹ بن رہے ہوں تو پھر بچوںکی کوئی پروا نہیں کی جائے گی۔