حدیث نمبر: 4988
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ نُصَبِّحُهَا لِلْغَارَةِ فَنُصِيبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَيْلِ وَلَا نَشْعُرُ فَقَالَ إِنَّهُمْ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی بستی ہو اور ہم اس پر صبح کے وقت اچانک حملہ کر دیں اور ان کے بچے گھوڑوں کے نیچے آ کر مارے جائیں، جبکہ ہمیں سمجھ ہی نہ آئے تو (ان بچوں کا قتل کیسا ہو گا)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ان کے بچے بھی ان ہی میں سے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ایسی صورت میں بچوں کوقتل کیا جا سکتا ہے، اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ قصداً مشرکوںکے بچوں کو قتل کرنا جائز ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مشرکوں تک پہنچتے پہنچتے بیچ میں بچے روند دیئے جائیں، یا شب خون کی صورت میں ان کا پتہ نہ چلے اور وہ بیچ میں قتل ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4988
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1825، 2563، ومسلم: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16806»