الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْكَفِّ عَنِ الْمُحَارِبِ إِذَا عَرَفَ بِ لا سلامِ وَوَعِيدِ قَاتِلِهِ وَعُدْرِ مَنْ أَخْطَأَ فِي قَتْلِهِ لِعَدْمِ فَهُم كَلامِهِ باب: اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
حدیث نمبر: 4985
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ يَا خَرَشَةُ قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ آج تو قاصد نہیں ہے، خرشہ! اٹھو اور اس کا سر قلم کر دو۔ پس وہ اٹھے اور اس کو قتل کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود میں اس حدیث کا متن یوں ہے: حارثہ بن مضرب نے کہا: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری کسی عربی سے کوئی عداوت نہیں ہے، لیکن میں بنو حنیفہ مسجد کے پاس سے گزرا ہوں، وہ لوگ مسیلمہ کذاب پر ایمان لا رہے تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو بلایا، پس ان کو لایا گیا، انھوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کروائی اور اس کے بارے میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرے بارے میں فرمایا تھا: اگر تو قاصد نہ ہو تو میں تجھے قتل کروا دیتا۔ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے، پھر قرظہ بن کعب کو حکم دیا، پس اس نے اس کو بازار میں قتل کر دیا اور کہا: جو ابن نواحہ کو مقتول دیکھنا چاہے تو وہ یہ بازار میں قتل کی حالت میں پڑا ہوا ہے۔