الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْكَفِّ عَنِ الْمُحَارِبِ إِذَا عَرَفَ بِ لا سلامِ وَوَعِيدِ قَاتِلِهِ وَعُدْرِ مَنْ أَخْطَأَ فِي قَتْلِهِ لِعَدْمِ فَهُم كَلامِهِ باب: اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَيْثُ قُتِلَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ إِنَّ هَذَا وَابْنَ أُثَالٍ كَانَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَسُولَيْنِ لِمُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا قَالَ فَجَرَتْ سُنَّةً أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ فَأَمَّا ابْنُ أُثَالٍ فَكَفَانَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا هَذَا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ فِيهِ حَتَّى أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْهُ الْآنَ۔ (دوسری سند) جب ابن نواحہ کو قتل کیا گیا تو سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ یہ اور ابن اثال دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، یہ دونوں مسیلمہ کذاب کے قاصد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم تو یہ شہادت دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی قاصد کو قتل کرنا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں قلم کر دیتا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے یہ طریقہ نافذ ہو گیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جائے گا، رہا مسئلہ ابن اثال کا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے کفایت کیا ہے اور یہ آدمی، یہ اسی نظرے میں لگا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اب مجھے قدرت دی (اور میں نے اس کو قتل کر دیا)۔