حدیث نمبر: 4983
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ فَجَاءُوا بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ فَقَالُوا أَخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ فَقَالَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا قَالَ فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن معیز سعدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سحری کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لیے نکلا، جب میں بنو حنیفہ مسجد کے پاس سے گزرا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، میں سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو اس واقعہ کی خبردی، انھوں نے لشکر کو بھیجا، وہ ان کو پکڑ کر لے آئے، انھوں نے ان سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا اور انھوں نے توبہ کر لی اور انھوں نے ان کو آزاد کر دیا، لیکن عبد اللہ بن نواحہ کا سر قلم کر دیا، انھوں نے کہا: یہ کیا ہوا کہ تم نے ایک قوم کو ایک جرم میں پکڑا، پھر کسی کو قتل کر دیا اور کسی کو چھوڑ دیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، یہ آدمی اور ابن اثال بن حجر ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم دونوں یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انھوں نے کہا: ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ بیشک مسیلمہ اللہ کا رسول ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں، اگر میں نے کسی وفد کو قتل کرنا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا۔ انھوں نے کہا: اسی وجہ سے تو میں نے اس کو قتل کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں یہ بہت بڑی جرأت ہے، اگلی حدیث میں قتل نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4983
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 2/ 235 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3837»