الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْكَفِّ عَنِ الْمُحَارِبِ إِذَا عَرَفَ بِ لا سلامِ وَوَعِيدِ قَاتِلِهِ وَعُدْرِ مَنْ أَخْطَأَ فِي قَتْلِهِ لِعَدْمِ فَهُم كَلامِهِ باب: اسلام کی معرفت ہو جانے کے بعد لڑائی کرنے والے سے رک جانے، اس کو قتل کر دینے کی¤وعید اور اس کا کلام نہ سمجھنے کی وجہ سے غلطی سے اس کو قتل کر دینے والے کے عذر کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي أَحْسِبُهُ قَالَ جَذِيمَةَ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِهِمْ أَسْرًا وَقَتْلًا قَالَ وَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمًا أَمَرَ خَالِدٌ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ قَالَ فَقَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ صَنِيعَ خَالِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنو جذِیمہ کی طرف روانہ کیا، انھوں نے اس قبیلے کو اسلام کی دعوت دی، وہ آگے سے اچھے انداز میں یہ نہ کہہ سکے کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔ بلکہ انھوں نے أَسْلَمْنَا کے بجائے اس طرح کہنا شروع کر دیا: صَبَأْنَا صَبَأْنَا ۔ اُدھر سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو قید کرنا اور قتل کرنا شروع کر دیا اور ہم میں سے ہر ایک آدمی کو ایک ایک قیدی دیا ، حتی کہ جب ایک صبح ہوئی تو سیدنا خالد نے حکم دیا کہ ہر آدمی اپنے قیدی کو خود قتل کر دے ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں سے کوئی آدمی اپنے قیدی کو قتل کرے گا ، پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی کاروائی بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور فرمایا : اے اللہ ! خالد نے جو کچھ کیا ، میں اس سے تیری طرف بری ہوتا ہوں (یعنی میرا اس کاروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ دو بار ارشاد فرمایا ۔