حدیث نمبر: 4981
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ جَمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ رَجُلٌ فَحَدَّثَنِي عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَرِيَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَشُوا أَهْلَ مَاءٍ صُبْحًا فَبَرَزَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَتَلَهُ فَلَمَّا قَدِمُوا أَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْمُسْلِمِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَهُوَ يَقُولُ إِنِّي مُسْلِمٌ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّمَا قَالَهَا مُتَعَوِّذًا فَصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَمَدَّ يَدَهُ الْيُمْنَى وَفِي لَفْظٍ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعْرِفُ الْمَسَاءَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ أَبَى اللَّهُ عَلَيَّ مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حمید بن ہلال سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے مجھے اور بشر بن عاصم کو جمع کر کے سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی: رسول للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سریہ کے لوگ صبح کے وقت پانی والوں کے پاس پہنچے، جب ان میں سے ایک آدمی باہر آیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اس پر حملہ کر دیا، اس نے آگے سے کہا کہ وہ مسلمان ہے، لیکن اس نے اس کو قتل کر دیا، جب یہ لوگ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: أَمَّا بَعْدُ،اس مسلمان کا کیا حال ہو گا، جو ایسے آدمی کو قتل کر دیتا ہے، جویہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ اس آدمی نے کہا: جی اس نے یہ بات بچاؤ کی خاطر کہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا اور اپنا دایاں ہاتھ لمبا کیا، ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تو برائی کو اس کے چہرے میں پہچان لیتا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مسلمان کو قتل کر دیا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4981
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 981، والحاكم: 1/ 19 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17009 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17134»