حدیث نمبر: 4978
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَيَسْتَمِعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ قَالَ فَتَسَمَّعَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ طلوع فجر کے بعد شب خون مارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان لگاتے، اگر اذان کی آواز آ جاتی تو رک جاتے، وگرنہ حملہ کر دیتے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان لگائے ہوئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا: اَللَّہُ أَکْبَرُ اللّٰہُ أَکْبَرُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فطرت پر ہیں۔ پھر جب اس نے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو آگ سے نکل گیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اذان، امن وسلامتی اور دینِ اسلام کی علامت ہے، اس کی وجہ سے جان و مال کو تحفظ ملتاہے، جب کسی علاقے یا فرد کے بارے میں سمجھ نہ آ رہی ہو کہ تو اذان جیسی علامتوں کاانتظار کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4978
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12376»