حدیث نمبر: 4977
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوِ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ (اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے حائل ہوتا ہوں، تیری توفیق سے حملہ کرتا ہوں اور تیری توفیق سے لڑتا ہوں۔)

وضاحت:
فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4977
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 319، والبزار: 2089، والنسائي في الكبري : 10450 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19145»