الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُيَلَاءِ فِي الْحَرْبِ وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالِاغْتِرَارِ بِكَثْرَةِ الْجُنْدِ باب: جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4976
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا وَفِي لَفْظٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمنوں سے ملنے کی تمنا نہ کیا کرو، لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس لڑائی میں کیا ہو گا (اس لیے تمنا نہ کیا کرو)۔
وضاحت:
فوائد: … یقینا جہاد باعث ِ اجر و ثواب ہے، لیکن مشکل اور آزمائش والا عمل ہے، لشکر ِ اسلام کو فتح بھی ہو سکتی ہے اور شکست بھی، پھر شکست کی کئی صورتیں ہیں، اس لیے دشمن سے لڑنے کی تمنا نہیں ہونی چاہیے، ہاں جب جنگ چھڑ جائے تو پھر ہر قسم کے خطرے کو بالائے طاق رکھ کر میدان میں اترا جائے۔