الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخُيَلَاءِ فِي الْحَرْبِ وَالنَّهْيِ عَنْ تَمَنِّي لِقَاءِ الْعَدُوِّ وَالِاغْتِرَارِ بِكَثْرَةِ الْجُنْدِ باب: جنگ میں فخر کرنے کے مستحب ہونے اور دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی تمنا کرنے اور لشکر کی اکثریت سے دھوکہ کھانے کی ممانعت کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ وَمِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کی بعض صورتوں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند ، اسی طرح وہ فخر کی بعض قسموں کو پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند، وہ جس غیرت کو پسند کرتا ہے، اس کا تعلق تہمت سے ہے اور جس غیرت کو ناپسند کرتاہے، اس میں کوئی تہمت اور گمان نہیں ہوتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جس فخر کو پسند کرتا ہے، وہ ہے بندے کا قتال کے وقت اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کے ساتھ فخر کرنا اور صدقہ کے ساتھ فخر کرنا اور وہ جس فخر کو ناپسند کرتا ہے، اس کا تعلق تکبر سے ہوتا ہے۔