الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ باب: مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
حدیث نمبر: 4971
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا وَإِنَّ شِعَارَكُمْ {هُمْ لَا يُنْصَرُونَ}))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: بیشک تم کل دشمنوں سے ملنے والے ہو، تمہارا شعار یہ ہو گا: {ھُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ}۔
وضاحت:
فوائد: … شعار وہ علامت ہے، جس کے ذریعے شبہ پڑ جانے کی صورت میں مجاہد دورانِ جنگ اپنے لشکر کے
افراد کو پہچان سکتا ہے۔
افراد کو پہچان سکتا ہے۔