الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ باب: مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
حدیث نمبر: 4970
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ، وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ، فَقُلْتُ: أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ، قَالَ: قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عقبہ بن مغیرہ اپنے باپ کے دادا مخارق سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، تاکہ تمہارے ساتھ رہوں، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔