الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ باب: مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
حدیث نمبر: 4968
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو عامل بنایا، … پھر باقی حدیث ذکر کی … ، سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کے شروع میں قتال نہ کرتے تو پھر لڑائی کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوائیں چل پڑتیں اور تائید و نصرت کا نزول شروع ہو جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بڑا ہی مستعدی کا وقت ہوتا ہے، مجاہد ہی یہ کیفیت بیان کر سکتا ہے، لیکن اس وقت کا انتخاب بھی تب ہی کیا جائے گا، جب لشکرِ اسلام کے امیر کی مرضی ممکن ہو گی اور کوئی مانع بھی نہ ہو، وگرنہ جب دشمن جنگ چھیڑیں گے یا کسی دوسرے وقت میں لڑنے کی بڑی مصلحت نظر آ رہی ہو گی، تو اسی وقت ان سے لڑا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر رات کو حملہ کیا تھا۔