الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْخُرُوجُ إِلَى الْغَزْوِ وَالنُّهُوضُ إِلَى الْقِتَالِ وَتَرْتِيبِ باب: مخصوص اوقات میں غزوہ کے لیے روانہ ہونے کے مستحب ہونے، دشمن سے لڑائی شروع کرنے، صفوں کو ترتیب دینے اور مسلمانوں کے شعار کا بیان
حدیث نمبر: 4965
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے دن کے شروع والے اوقات میں برکت فرما۔
وضاحت:
فوائد: … دن کے شروع میں کیے گئے کام میں برکت ہو تی ہے، جہاں یہ مستعدی کا وقت ہوتا ہے، وہاں دن کا سب سے لمبا پیریڈ بھی یہی ہوتاہے، غور کریں کہ آج کل عام لوگ گیارہ بارہ بجے اپنے کاروبار وغیرہ کا آغاز کرتے ہیں، نو دس بجے تو عام لوگوں کا معمول ہے، جبکہ سردیوں کے موسم میں نماز فجر سے دس بجے تک پانچ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں اور موسم گرما میں تو دس بجے تک سات آٹھ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں، اتنا لمبا پیریڈ دن کے کسی اور حصے میں ہاتھ نہیں آتا، جبکہ ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی برکت بھی پڑ رہی ہوتی ہے۔