الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4960
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أُدَاوِي الْمَرْضَى، وَأَقُومُ عَلَى جَرَاحَاتِهِمْ، فَأُخَلِّفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، أَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئی، میں مریضوں کا دوا دارو کرتی، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی، مجاہدین کی رہائش گاہوں میں پیچھے رہتی اور ان کے لیے کھانا تیار کرتی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)