الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4959
عَنْ رُبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ربیع بنت ِ معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتی تھیں، جس میں ہم لوگوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمی لوگوں اور شہداء کو مدینہ منورہ میں منتقل کرتی تھیں۔