الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4954
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، ثُمَّ وَجَّهَهُمْ، وَقَالَ: ((انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ)) يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد تک ان کے ساتھ چلے، پھر ان کو الوداع کہا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نام پر چلو، اے اللہ! ان لوگوں کی مدد فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ لوگ تھے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔