الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4953
قَالَ صَفْوَانُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، قَالَ: ((سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، تُقَاتِلُونَ أَعْدَاءَ اللَّهِ، لَا تَغُلُّوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ عَلَى طُهُورٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا اور فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں چلو، اللہ کے دشمنوں سے لڑو، نہ خیانت کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو، مسافر تین دنوں تک اپنے موزوں پر مسح کر سکتا ہے، جبکہ اس نے وضو کی حالت میں موزے پہنے ہوں اور مقیم ایک دن رات تک ان پر مسح کر سکتا ہے۔