الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4952
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَذْكُرُ مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ ثنیۃ الوداع کی طرف نکلا، ہم دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے لیے گئے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس آرہے تھے۔ سفیان راوی نے ایک بار کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آنا یاد ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس لوٹے تھے۔