الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ تَشْبِيْعِ الْغَازِي وَاسْتِقْبَالِهِ وَوَصِيَّةِ الإمامِ لَهُ باب: مجاہد کو الوداع کہنے، اس کا استقبال کرنے اور امام کا اس کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4951
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكْتُفَهُ عَلَى رَاحِلَةٍ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں لڑنے والے کو الوداع کہوں اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں اس کی مدد کروں، اس کی روانگی کے وقت یا اس کی واپسی کے وقت تو یہ مجھے دنیا و ما فیہا سے زیادہ پسند ہو گا۔