حدیث نمبر: 4945
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب غزوۂ خندق کے موقع پر معاملے میں شدت آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے، جو ہمیں بنوقریظہ کے حالات سے مطلع کرے؟ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چلے اور ان کے حالات سے آگاہ کیا، پھر جب معاملے میں مزید سختی پیدا ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہی بات ارشاد فرمائی، (آگے سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ہی جواب دیا)، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہر نبی کا حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حواری سے مراد سنگین حالات میں منتخب اور خاص معاون و مددگار ہے، اس میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی منقبت ہے، کافروں کی جاسوسی کرنا درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2847، 2997، ومسلم: 2415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14428»