حدیث نمبر: 4944
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ اسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ أَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی غزوے کا ارادہ کرتے تو توریہ کرتے ہوئے کسی اور چیز کا اظہار کرتے، یہاں تک کہ غزوۂ تبوک کا موقع آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شدید گرمی میں یہ جنگ لڑی تھی، دور کا سفر کرنا تھا، ہلاکت گاہوں سے گزرنا تھا اور دشمنوں کی کثیر تعداد سے مقابلہ کرنا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر ان کا معاملہ واضح کر دیا، تاکہ دشمن کے مطابق تیاری کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس طرف جانا تھا، اس کی واضح طور پر خبر دے دی۔

وضاحت:
فوائد: … توریہ: ارادہ کی ہوئی چیز کا اس طرح اظہار کرنا کہ حقیقت مخفی رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4944
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15882»