الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الدَّعْوَةِ لِلإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ وَوَصِيَّةِ الْإِمَامِ لَا مِيْرِ الْجَيْشِ باب: قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْغَزْوِ أَوْ عَنِ الْقَوْمِ إِذَا غَزَوْا بِمَا يَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ يُقَاتِلُوهُمْ وَهَلْ يَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكَتِيبَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ إِمَامِهِ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَغْزُو وَلَدَهُ وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا لِعُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ وَضَيْعَةٌ كَثِيرَةٌ وَقَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ يَسْقُونَ عَلَى نَعَمِهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبَايَاهُمْ وَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ وَإِنَّمَا كَانُوا يُدْعَوْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا يَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِهِ۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے امام نافع سے بذریعہ کتابت یہ سوالات کیے کہ کس چیز نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے یا جہاد کرنے والے لوگوں سے پیچھے بٹھا دیا ہے، دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے پہلے سب سے پہلے ان کو کس چیز کی دعوت دی جائے گی اور کیا آدمی امام کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حملہ کر سکتا ہے؟ انھوں نے تحریری جواب دیتے ہوئے لکھا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا جہاد کر رہا ہے اور وہ سواریاں دے رہے ہیں، نیز وہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتیں، چھوٹے بچے اور مالِ کثیر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تھا، جبکہ وہ غافل تھے اور اونٹوں کو پانی پلا رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جنگ جوؤں کو قتل کر دیا اور ان کے باقی افراد کو قیدی بنا لیا، اسی جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ بنت ِ حارث رضی اللہ عنہا کو بطورِ قیدی حاصل کیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ اس لشکر میں بھی موجو د تھے، کافروں کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور آدمی کو امام کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔