حدیث نمبر: 4939
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْغَزْوِ أَوْ عَنِ الْقَوْمِ إِذَا غَزَوْا بِمَا يَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ يُقَاتِلُوهُمْ وَهَلْ يَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكَتِيبَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ إِمَامِهِ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَغْزُو وَلَدَهُ وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا لِعُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ وَضَيْعَةٌ كَثِيرَةٌ وَقَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ يَسْقُونَ عَلَى نَعَمِهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبَايَاهُمْ وَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ وَإِنَّمَا كَانُوا يُدْعَوْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا يَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے امام نافع سے بذریعہ کتابت یہ سوالات کیے کہ کس چیز نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے یا جہاد کرنے والے لوگوں سے پیچھے بٹھا دیا ہے، دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے پہلے سب سے پہلے ان کو کس چیز کی دعوت دی جائے گی اور کیا آدمی امام کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حملہ کر سکتا ہے؟ انھوں نے تحریری جواب دیتے ہوئے لکھا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا جہاد کر رہا ہے اور وہ سواریاں دے رہے ہیں، نیز وہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتیں، چھوٹے بچے اور مالِ کثیر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تھا، جبکہ وہ غافل تھے اور اونٹوں کو پانی پلا رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جنگ جوؤں کو قتل کر دیا اور ان کے باقی افراد کو قیدی بنا لیا، اسی جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ بنت ِ حارث رضی اللہ عنہا کو بطورِ قیدی حاصل کیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ اس لشکر میں بھی موجو د تھے، کافروں کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور آدمی کو امام کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتیں …۔ اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ جب تک جہاد کا تعین نہیں ہو گا، وگرنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ جہاد کو ترک کر دیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کی نصیحت کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4939
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2541، ومسلم: 1730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4873»