الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ الدَّعْوَةِ لِلإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ وَوَصِيَّةِ الْإِمَامِ لَا مِيْرِ الْجَيْشِ باب: قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگوں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ وہ غور و فکر کرتے رہے کہ کس شخص کو یہ جھنڈا دیا جائے گا، جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہر ایک کو جھنڈا ملنے کی امید تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھ خراب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف پیغام بھیج کر ان کا بلاؤ۔ پس ان کو لایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں تھوکا اور ان کے لیے دعا کی، وہ یوں شفایاب ہوئے کہ گویا ان کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان سے قتال کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلامتی کے ساتھ چل، یہاں تک کہ ان کے صحن میں جا اتر اور ان کو اسلام کی دعوت دے اور ان کو بتلا کہ اللہ تعالیٰ کا کون سا حق ان پر واجب ہے، اللہ کی قسم ہے! اگر اللہ تعالیٰ نے تیری وجہ سے کسی ایک بندے کو بھی ہدایت دے دی تو وہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہو گا۔