الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ لُزُوْمِ طَاعَةِ الْجَيْشِ لَا مِيْرِهِمْ مَا لَمْ يَأْمُرُهُمْ بِمَعْصِيَةٍ وَكَرَاهَةِ تَفَرُّقِهِمْ عِنْدَ النُّزُولِ باب: اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحْتُ رَجُلًا سَيْفًا قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي۔ بشر بن عاصم لیثی کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو کہ میں بشر کی قوم میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، میں نے ایک آدمی کو تلوار دی، جب وہ لوٹا تو اس نے کہا: اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ملامت کی ہے، میں نے پہلے اس کی مثال نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ایک آدمی کو بھیجتا ہوں اور وہ میرے حکم کو نافذ نہیں کرتا تو کیا تم اس چیز سے عاجز آ گئے کہ اس کی جگہ ایسے آدمی کا تقرر کر دو، جو میرا حکم نافذ کرے۔