حدیث نمبر: 4933
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحْتُ رَجُلًا سَيْفًا قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بشر بن عاصم لیثی کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو کہ میں بشر کی قوم میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، میں نے ایک آدمی کو تلوار دی، جب وہ لوٹا تو اس نے کہا: اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ملامت کی ہے، میں نے پہلے اس کی مثال نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ایک آدمی کو بھیجتا ہوں اور وہ میرے حکم کو نافذ نہیں کرتا تو کیا تم اس چیز سے عاجز آ گئے کہ اس کی جگہ ایسے آدمی کا تقرر کر دو، جو میرا حکم نافذ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب سے متعلقہ آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک شریعت کی نافرمانی نہ ہوتی ہو، اس وقت تک امیر کی اطاعت کرنا فرض ہے، اسلامی تعلیمات کی رو سے عام مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ پر اس کی غلطی کو واضح کرے، خلفائے راشدین کے سنہری دور کی مثالیں موجود ہیں، ہاں اگر حکمران ظالم ہو اور غلطی کی نشاندہی پر بڑی سزا دے سکتا ہو تو مصلحت سے کام لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4933
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2627 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17132»