الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ لُزُوْمِ طَاعَةِ الْجَيْشِ لَا مِيْرِهِمْ مَا لَمْ يَأْمُرُهُمْ بِمَعْصِيَةٍ وَكَرَاهَةِ تَفَرُّقِهِمْ عِنْدَ النُّزُولِ باب: اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ إِنَّا مُدْلِجُونَ فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران فرمایا: بیشک آج ہم ساری رات سفر کرنے والے ہیں، لہذا کوئی سرکش اور کمزور اونٹ والا آدمی رات کا یہ سفر نہ چلے۔ لیکن ایک آدمی اپنے سرکش اونٹ پر اس سفر میں چل دیا، لیکن وہ گر پڑا اور اس کی ران ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن پھر ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے، بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔