الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
بَابُ لُزُوْمِ طَاعَةِ الْجَيْشِ لَا مِيْرِهِمْ مَا لَمْ يَأْمُرُهُمْ بِمَعْصِيَةٍ وَكَرَاهَةِ تَفَرُّقِهِمْ عِنْدَ النُّزُولِ باب: اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ هَذَا وَقَالُوا حِينَ أَمَرَهُمْ بِالْقِتَالِ إِذَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مِنَ الْمُقَاتِلِينَ۔ سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتال کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کو تیر لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے جنت کو واجب کر لیا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتال کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو ہم وہ بات نہیں کریں گے، جو بنو اسرائیل نے کی تھی، انھوں نے کہا تھا: اے موسی! تو جا اور تیرا ربّ جائے، تم دونوں جا کر لڑو، بیشک ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ اور آپ کا ربّ چلے، بیشک ہم وہ جنگجو ہیں، جو آپ کے ساتھ چلیں گے۔