الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مُشَاوَرَةِ الْإِمَامِ رَبُّسَاءَ الْجَيْشِ وَنُصْحِهِ لَهُمْ وَرِفْقِهِ بِهِمْ وَأَخْذِهِمْ بِمَا عَلَيْهِمْ باب: اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَقَالَ مُعَاذٌ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ۔ سیدنا معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عبد اللہ بن عبد الملک کے ساتھ روم کی سرزمین میں سِنان کے قلعہ کے پاس اترے، لوگوں نے پڑاؤ کے مقامات کو تنگ کردیا اور راستہ منقطع ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں غزوہ کیا، ایک دفعہ لوگوں نے راستے کو تنگ کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف مُنادِی بھیجا، اس نے یہ اعلان کیا کہ جس آدمی نے منزل کو تنگ کیا یا راستے کو منقطع کیا، اس کا کوئی جہاد نہیں ہو گا۔