حدیث نمبر: 4927
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَقَالَ مُعَاذٌ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عبد اللہ بن عبد الملک کے ساتھ روم کی سرزمین میں سِنان کے قلعہ کے پاس اترے، لوگوں نے پڑاؤ کے مقامات کو تنگ کردیا اور راستہ منقطع ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں غزوہ کیا، ایک دفعہ لوگوں نے راستے کو تنگ کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف مُنادِی بھیجا، اس نے یہ اعلان کیا کہ جس آدمی نے منزل کو تنگ کیا یا راستے کو منقطع کیا، اس کا کوئی جہاد نہیں ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمانوں کے لشکر کا چلنا اورکسی مقام پر پڑاؤ ڈالنا مرتّب نظام کے تحت ہونا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4927
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2629، 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15733»