حدیث نمبر: 4922
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ فَقَالَ جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخَرَجَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے، ایک مشرک آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا اور جمرہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لیا اور اس نے کہا: میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر لڑوں اور مالِ غنیمت حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا، پس بیشک ہم کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کرتے۔ لیکن پھر وہ درخت کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملا، صحابۂ کرام کو اس سے بڑی خوشی ہوئی، کیونکہ یہ بڑا مضبوط اور سخت آدمی تھا، اس نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑنے اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوٹ جا، پس بیشک میں ہرگز مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیداء مقام پر چڑھے تو وہی آدمی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ ملا اور وہی بات کہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے کر آگے بڑھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں کو جہاد میں مشرکوں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25673»