الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
مَنْ أَرَادَ الْجِهَادَ وَلَهُ أَبْوَان باب: اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
حدیث نمبر: 4920
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خدمت میں لگ جا، پس بیشک اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے۔ پھر اس نے مختلف مجلسوں میں دوسری بار اور پھر تیسری بار یہی بات دوہرائی۔
وضاحت:
فوائد: … جنت ماں کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے، مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت ملے گی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے، جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہو گی، مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہذا اپنا فرض ادا کر کے جنت حاصل کر۔ مسلمان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہونا چاہیے، شرعی احکام کے مطابق وہ جہاد میں ملے یا اس سے آسان عمل میں۔