حدیث نمبر: 4919
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرُرْ أَبَوَيْكَ وَفِي لَفْظٍ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو اس درخت کے نیچے دیکھا ، اس گھاٹی میں سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، میں اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو تلاش کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور ان کے ساتھ نیکی کر۔ ایک روایت میں ہے: ان میں جہاد کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اسی جہت کی طرف لوٹ گیا۔

وضاحت:
فوائد: … والدین میں جہاد کر: اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱)ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اور ان کی خواہشات کو اپنی تمناؤں پر ترجیح دینے کے لیے اپنے نفس سے یا شیطان سے جہاد کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3004، 5972، ومسلم: 2549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6525»