الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
باب فِي أَنَّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ شَهِيدًا باب: اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہید کی وفات پائی
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ ابْنِي إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي۔ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا ، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس چیز کو اپنی بیماری کا سبب قرار دیتے ہیں، میرا خیال تو یہی ہے کہ اس کی وجہ وہ کھانا ہے جو میرے بیٹے نے بھی آپ کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا، ان کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وفات پا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو سبب نہیں سمجھتا، اب تو دل سے نکلنے والی رگ کے کٹ جانے کا وقت آ چکا ہے۔