حدیث نمبر: 4915
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ قَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ جابر بن عتیک سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فوت ہونے لگے تو ان کی ایک بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ امید کرتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، بہرحال آپ نے اپنی تیاری تو کر رکھی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق اجر تو ثابت کر دیا ہے، اور تم یہ بتاؤ کہ تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والا شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ کی) وجہ سے وفات پانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، جل کر فوت ہونے والا شہید ہے، گرنے والی دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا شہید ہے اور حمل کی وجہ سے فوت ہو جانے والی خاتون شہید ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مختلف حکمی شہداء کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص رحمت کرتے ہوئے ان کو شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے، اس مرتبے کی دو وجوہات ہیں، سخت تکلیف ہونا اور اکثر صورتوں میں اچانک موت میں مبتلا ہو جانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3111، والنسائي: 4/13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24154»