الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي قَالُوا قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کیلئے تشریف لائے، وہ (شدت ِ مرض کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر) اپنے بستر سے ہٹ نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے شہداء کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: مسلمان کا قتل ہو جانا ہی شہادت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، مسلمان کا قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے اور وہ حاملہ خاتون بھی شہید ہے، جو اپنے پیٹ والے بچے کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے۔