حدیث نمبر: 4909
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعُودُونِي فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي أَسْنِدِينِي فَأَسْنَدَتْنِي فَقُلْتُ مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ هَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ انصاری لوگوں سمیت میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ جواباً خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ اس بار بھی خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: مجھے سہارا دے، پس اس نے مجھے سہارا دیا، پھر میں نے کہا: جی جو شخص اسلام لایا، پھر اس نے ہجرت کی اور پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کی تعداد کم ہو گی، بلکہ اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری کی وجہ سے موت بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہو جانا بھی شہادت ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2693، 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23078»