حدیث نمبر: 4905
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا عَلَى فُرُشِنَا فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء اور بستروں پر طبعی موت فوت ہونے والے اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے بارے میں جھگڑیں گے، جو طاعون کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں، شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہے اور بستروں پر ایسی ہی طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جیسے ہم مرے ہیں، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتے ہوئے کہے گا: تم لوگ ان کے زخموں کو دیکھ لو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوئے تو یہ ان ہی میں سے اور ان کے ساتھ ہوں گے، پس ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اس جھگڑے کی بنیاد حسد وغیرہ نہیں، بلکہ شہداء چاہیں گے کہ طاعون سے فوت ہونے والوں کا درجہ اونچا کیا جائے، وہ ہمارے ساتھ رہیں، اور بستروں پر فوت ہونے والے چاہیں گے کہ اگر انہیں شہداء کا مرتبہ مل رہا ہے تو ہمیں بھی ملنا چاہیے کیونکہ موت کے لحاظ سے ہم ایک جیسے ہیں، گویا یہ رشک ہے اور رشک جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 6/37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17291»