الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ فَلَمَّا رَجَعْنَا تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَكِلَاهُمَا قَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا سَبَقْتُمُونَا بِهَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ فَذَكَرُوا أَنَّهُ كَانَ بِهِ بَطْنٌ وَأَنَّهُمْ خَشُوا عَلَيْهِ الْحَرَّ قَالَ فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ۔ ابو اسحق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک نیک سیرت آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا جنازہ نکالا گیا تو ہمیں سیدنا خالد بن عرفطہ اور سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہما ملے، یہ دونوں صحابی تھے، انھوں نے کہا: تم اس نیک آدمی کے سلسلے میں ہم سے سبقت لے گئے ہو، لوگوں نے کہا: اس کو پیٹ کی بیماری تھی اور ہمیں گرمی کی وجہ سے ڈر تھا، یہ سن کر ان دو میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی وجہ سے فوت ہو گا، اس کو قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق دوسرے صحابی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں۔)