حدیث نمبر: 4902
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حَمَمَةُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ صِدْقَهُ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَيْهِ وَإِنْ كَرِهَ اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا قَالَ فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً الْبَطْنُ فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ قَالَ فَقَامَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَةَ شَهِيدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حممہ نامی ایک آدمی جہاد کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اصفہان کی طرف نکلا، یہ آدمی اصحاب ِ رسول میں سے تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! بیشک حممہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر حممہ سچا ہے تو تو اس کے سچ کو پورا کر دے اور اس کو شہید کر دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر بھی تو اس کو شہید کر دے، اگرچہ یہ ناپسند کرتا ہو، اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹانا۔ ایسے ہی ہوا اور وہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اصبہان کے علاقے میں فوت ہو گیا۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی سے سنا اور جتنا ہم نے علم حاصل کیا، اس کا یہ تقاضا یہ ہے کہ حممہ شہید ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا حممہ رضی اللہ عنہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئے اور اس مرض سے وفات پانے والا حکماً شہید ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۹۱۴)میں آ رہا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی کہ یہ جہادی سفر میں تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود الطيالسي:505، والطبراني في الكبير : 3610 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19893»