حدیث نمبر: 4901
عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ أَرْضًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يُقَالُ لَهَا الْوَهْطُ فَأَمَرَ مَوَالِيَهُ فَلَبِسُوا آلَتَهُمْ وَأَرَادُوا الْقِتَالَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ مَاذَا فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُظْلَمُ بِمَظْلَمَةٍ فَيُقَاتِلَ فَيُقْتَلَ إِلَّا قُتِلَ شَهِيدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعد بن ابراہیم سے مروی ہے، انھوں نے بنومخزوم کے ایک آدمی سے سنا، وہ اپنے چچا سے بیان کرتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی وہط نامی زمین لینا چاہی، لیکن انھوں نے اپنے غلاموں کو حکم دیا، پس انھوں نے اپنے آلات اٹھا لیے اور لڑنے کے لیے تیار ہو گئے، میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان پر ظلم کیا جاتا ہے اور وہ آگے سے قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … وہط کا لغوی معنی پست زمین ہے، یہ طائف میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی زمین تھی اور پست ہونے کی وجہ سے اس کا نام ہی وہط پڑ گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4901
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل من نبي مخزوم وعمه، أخرجه االطيالسي: 2294 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6913 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6913»