الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ باب: شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
حدیث نمبر: 4900
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ الْمِيتَةُ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ دُونَ حَقِّهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھی موت یہ ہے کہ آدمی اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی ان چیزوںکے دفاع میں قتل ہو جائے، وہ بھی شہید ہے، لیکن یہ لوگ آخرت کے حکم کے مطابق شہید ہوتے ہیں، یعنی ان کو شہداء والا اجر و ثواب دیا جائے گا، دنیا میں ان پر شہید کے احکام لاگو نہیں ہوں گے۔ مثلا اسے عام میت کی طرح غسل دیا جائے گا اور اس کا جنازہ پڑھایا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے، مگر ان کو غسل دیا گیا تھا اور ان کا جنازہ بھی پڑھا گیا تھا، سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا معاملہ بھی یہی ہے۔