الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
أنواع الشُّهَدَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدَرَجَاتِهِمْ بِاعْتِبَارِ نِيَّاتِهِمْ باب: اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
حدیث نمبر: 4897
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَقُولُونَ لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَفِضَّةً يَبْتَغِي التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو آدمی تمہاری ان جنگوں میں مارا جاتا ہے تو تم اس کے بارے میں کہتے ہو کہ فلاں شہید ہو گیا ہے، جبکہ ممکن ہے کہ اس نے تجارت کی خاطر اپنے چوپائے کی کمر پر یا سواری کے پہلوؤں پر سونا اور چاندی لاد رکھا ہو، لہذا کسی کے بارے میں یہ شہادت والی بات نہ کیا کرو، ہاں وہ بات کر سکتے ہو، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے کہ جو آدمی اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، وہ جنت میں جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اصل بات یہ ہے کہ ظن غالب کی روشنی میں ہر عبادت گزار کو خاص قسم کے لقب سے نوازا جاتا ہے، مثلا نماز پڑھنے والے کو نمازی کہہ کر اس کو اچھے لفظوں میں یاد کرنا، حالانکہ اس چیز کا تو اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں اور اس کی نماز اس کے لیے باعث ِ رحمت ثابت ہوئی ہے یا باعث ِ عذاب، یہی معاملہ روزے، حج، زکوۃ، جہاد، بلکہ ہر نیکی کی یہی صورت حال ہے۔ اگر ہم کسی کو حاجی یا شہید کہتے ہیں تو ہم دراصل اپنے حسن ظن یا ظن غالب کی روشنی میں کہہ رہے ہوتے ہیں، حتمی فیصلہ تو اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔