الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
أنواع الشُّهَدَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدَرَجَاتِهِمْ بِاعْتِبَارِ نِيَّاتِهِمْ باب: اللہ کے راستہ کے شہداء کی اقسام اور ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کے درجات کا بیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدٌ أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدٌ فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقُتِلُوا فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس طرح کہنے سے بچا کرو کہ فلاں کی وفات شہادت ہے، یا فلاں شہید ہو گیا ہے، کیونکہ کوئی آدمی غنیمت کی خاطر لڑتا ہے، کوئی شہرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے اور کوئی اس لیے قتال کرتا ہے کہ اس کے مرتبے کا پتہ چل جائے، اگر تم نے لامحالہ طور پر گواہی دینی ہی ہے تو ان لوگوں کے لیے شہادت کی گواہی دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن کو ایک سریّہ میں بھیجا تھا اور ان کو قتل کر دیا گیا تھا، انھوں نے قتل ہونے سے پہلے کہا تھا: اے اللہ! ہمارے نبی کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم تجھ کو مل چکے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہو گئے ہیں اور تو ہم سے راضی ہو گیا ہے۔