حدیث نمبر: 4895
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ الشُّهَدَاءُ فَقَالَ إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي أَصْحَابُ الْفُرُشِ وَرُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو محمد، جو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شہداء کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر شہداء بستروں والے ہوں گے اور دو صفوں کے درمیان قتل ہونے والے کئی افراد ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی نیتوں کو بہتر جاننے والا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … بستروں والے شہداء سے مراد وہ لوگ ہیں، جو محرمات و مکروہات سے گریز کر کے اور واجبات و مستحبات ادا کر کے جہاد النفس کرتے ہیں اور شیطان کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ بہرحال قتال اور جہاد بالسیف کی اپنی فضیلت ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کا مقصد اس کے راستے میں جہاد کرنا ہے، کیونکہ نیت مخفی چیز ہے، لوگ ظاہر کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ دل کو بھی دیکھتا ہے، فضیلت اسی کو حاصل ہو گی جو خالصتاً لوجہ اللہ جہاد کو جائے گا۔ اگر کوئی اور آلائش داخل ہو گئی تو جہاد بجائے جنت کے جہنم کا ذریعہ بن جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4895
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ابو محمد، ذكره البخاري في الكني ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا، وذكره ابن حبان في الثقات ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3772 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3772»