حدیث نمبر: 4885
عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ رَجُلٍ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْطَى الشَّهِيدُ سِتَّ خِصَالٍ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ يُكَفَّرُ عَنْهُ كُلُّ خَطِيئَةٍ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُؤْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا قیس جذامی رضی اللہ عنہ ، یہ ایسے آدمی تھے جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہید کو چھ خصلتیں عطا کی جاتی ہیں: اس کے خون کے پہلے قطرے میں ہی اس کا ہر قسم کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، اس کو اس کا جنت میں سے ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، انتہائی سفید سیاہ رنگ والی سوتی آنکھوں والی عورتوں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو بڑی گھبراہٹ سے اور عذاب ِ قبر سے امن میں رکھا جاتا ہے اور اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4885
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه البيھقي في الشعب : 4252، وفي اثبات عذاب القبر : 146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17936»